بار بار احتجاج سے کیا حاصل ہوگا؟

ڈاکٹر طاہرالقادری باربار سانحہ ماڈل ٹاؤن کی بات کرتے ہیں، ہمیں بھی اس واقعے پر افسوس ہے۔ وہ باربار یہی بات کیوں کرتے ہیں؟ نون لیگ کی حکومت میں بھلا ان کو کیسے انصاف مل سکتا ہے؟ ہمیں اور ضروری کام کرنے دیں، کیوں باربار ہمیں ڈسٹرب کرتے ہیں؟ ایک بار تو اتنا بڑا دھرنا دیا پھر بھی کچھ نہیں ہوا، اب بس کردیں، آگے بھی کچھ نہیں ہونے والا۔

ایسی سوچ رکھنے والے لوگ اگر کسی امتحان میں فیل ہوجائیں تو دوبارہ پیپر دیتے ہیں، دوسری دفعہ فیل ہوجائیں تو تیسری دفعہ امتحان دیتے ہیں اور اُس وقت تک یہ سلسلہ جاری رکھتے ہیں جب تک وہ پاس نہ ہوجائیں۔ ایسے لوگ جب بیمار ہوتے ہیں تو وہ کسی ایک ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں، اس سے شفاء نہ ملے تو دوسرے ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں اور اس وقت تک ڈاکٹر اور دوا تبدیل کرتے رہتے رہتے ہیں جب تک بیماری ختم نہ ہوجائے اور وہ مکمل صحتیاب نہ ہوجائیں ۔ ۔ ۔ ۔ تو پھر وہ ڈاکٹر طاہرالقادری کو کیوں کہتے ہیں کہ وہ ایک دو دفعہ مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرسکے تو اب جدوجہد ہی ترک کردیں؟ ۔ ۔ ۔ کیا ایک دو دفعہ ظاہری کامیابی حاصل نہ ہونے سے یہی مراد ہوتا ہے کہ ہمیشہ کیلئے ناکامی ہوگئی؟

اصل بات یہ ہے کہ ہم ذاتی اور گروہی مفادات میں گھرے ہوئے ہیں۔ جب لوگ اجتماعیت کا شعور کھو کر مادیت پرست بن جائیں تو وہ صرف اپنا فائدہ سوچتے ہیں، قومی اور ملی سطح کی سوچ ہی ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ ہر شخص یہی سوچ کر مطمئن ہے کہ دوسرے لوگ ہلاک ہوگئے تو کیا ہوا، ہم تو محفوظ ہیں۔ لوگوں کو روٹی نہیں ملی تو کیا ہوا، ہم تو لذیذ کھانے کھا رہے ہیں۔ لوگوں کو کپڑا میسر نہیں تو کیا ہوا، ہم تو نئے فیشن کے لباس پہن رہے ہیں۔ لوگوں کو چھت میسر نہیں تو لوگ جانیں، ہمیں کیا، ہمارا گھر تو عالیشان بنا ہوا ہے۔ ایسی سوچ نہ تو اخلاقی ہے نہ مذہبی اور نہ ہی انسانی۔

ہم یہ نہیں سوچتے کہ جس ظالم نے آج غریبوں سے روٹی چھین لی ہے اس کا پنجہ کل ہمارے گریبان تک بھی پہنچ سکتا ہے، کل نہ پہنچا تو پرسوں ہمارے بچوں سے وہ ضرور نوالے چھین لے گا۔ ۔ ۔ تو کیوں نہ آج ہی متحد ہو کر اُس ظالم کا ہاتھ روکا جائے اور پوری قوم کو ظلم کے نظام سے چھٹکارہ دلایا جائے۔ جب ہم پوری قوم کو بچانے کی اجتماعی کوشش کریں گے تو یقیناً ہم خود اور ہماری اولادیں بھی محفوظ ہوجائیں گے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ آپ طاہر القادری کے احتجاج سے ڈسٹرب ہو رہے ہیں مگر غربت سے نہیں، مہنگائی سے نہیں، لوڈشیڈنگ سے نہیں، بےروزگاری سے نہیں، کرپشن سے نہیں، لوٹ مار سے نہیں اور نااِنصافی سے آپ ڈسٹرب نہیں۔ آپ کو طاہرالقادری کا کچھ دنوں کا اِحتجاج ڈسٹرب کرتا ہے مگر حکمرانوں کے سالہا سال کے ظلم ڈسٹرب نہیں کرتے؟

جی ہم طاہرالقادری کا ساتھ کیوں دیں، وہ تو مذہبی لیڈر ہیں، لیڈر کو سیاسی ہونا چاہیئے۔ اسی بات پر دلیلوں کے انبار۔ ۔ ۔ ہم اُن کا ساتھ نہیں دیتے اُن کا مسلک ٹھیک نہیں اور اس پر ہزاروں دلیلیں۔ ۔ ۔ ہم ساتھ نہیں دیتے اُن کے خطاب کے کئی غلط کلپ انٹرنیٹ پر موجود ہیں، اسی بات پر بےشمار دلیلیں۔ ۔ ۔ اِس طرح تو آپ قائدِاعظم کے زمانے میں بھی اُن کا ساتھ نہ دیتے، اُن کی ذات میں بھی کئی خامیاں نکال لیتے۔ ۔ ۔ کہ وہ طویل عرصہ ملک سے باہر رہے، باہر سے پڑھے، انہیں برصغیر کا کیا پتا؟ وہ تو انگریزی لباس پہنتے ہیں، انہیں اسلام اور ثقافت کا کیا علم؟ وہ تو کتا پالتے ہیں، سگریٹ اور سگار پیتے ہیں، اردو بھی روانی سے نہیں بولتے، ایسے شخص کا ساتھ ہم کیوں دیں؟

جی ہم طاہرالقادری کا ساتھ کیوں دیں، انہوں نے تو اِسلام آباد میں کفن لہرایا تھا، قسمیں کھائی تھیں۔ ۔ ۔ تو کیا کفن لہرانے اور قسمیں کھانے تک آپ اُن کے ساتھ دھرنے میں بیٹھے رہے تھے؟ اگر آپ سب ایک ساتھ نکل آتے تو کیا انہیں ایسا کرنے کی ضرورت پیش آتی؟

جی ہم طاہرالقادری کا ساتھ نہیں دیتے، ان کے بندے مارے گئے وہ انہیں نہ بچا سکے۔ ۔ ۔ کیا کبھی آپ نے یہ سوچا کہ کتنے بندے ہسپتالوں میں علاج کی سہولت نہ ہونے سے مرے؟ کتنوں نے بےروزگاری اور مہنگائی سے تنگ آ کر خودکشی کی؟ کتنے خوراک کی قلت سے مرے؟ کتنے ناقص غذا سے مرے؟ کتنے دہشتگردی، ٹارگٹ کلنگ اور جعلی پولیس مقابلوں میں مرے؟۔ ۔ ۔ کیا اِن سب کو بھی طاہرالقادری نے مروایا؟ ۔ ۔ ۔ ماڈل ٹاﺅن اور اِسلام آباد میں شہید ہونے والے تو طاہرالقادری کی اپنی تنظیم کے لوگ تھے، عام پبلک تو نہیں تھی، یہاں آئے دن جو ہزاروں لاکھوں عام لوگ مر رہے ہیں، کبھی اُن سے بھی آپ کو ہمدردی ہوئی؟ کبھی اُن کے حقوق کی بھی آپ نے کوئی جدوجہد کی؟

طاہرالقادری کی کسی بات پر قائداعظم، علامہ اقبال، اولیاء یا صحابہ کرام کی کوئی مثال دی جائے تو فوراً کہتے ہیں ”معاذاللہ، استغفراللہ، اَب تم طاہرالقادری کو اُن سے ملانے لگے ہو؟“۔ ۔ ۔ اِتنی سی بات نہیں سمجھتے کہ مثال ہمیشہ کسی اچھی اور اعلیٰ شخصیت کی دی جاتی ہے اور مثال دینے سے کبھی یہ مراد نہیں ہوتا کہ کسی کو کسی سے ملایا جا رہا ہے۔ ۔ ۔ اگر اِن اعلیٰ شخصیات کی مثالیں نہ دیں تو کیا یہودیوں اورعیسائیوں کی مثالیں دیں؟ کیا آپ اپنے بزرگوں اور لیڈروں کی بات کرتے ہوئے شیطانوں کی مثالیں دیتے ہیں؟

سیدھا سا اصول بنائیں کہ جو عوام کے حقوق کی بات کرتا ہے، جسے قانون یاد ہے، جو سیاست اور معیشت کا شعور رکھتا ہے، جو سچ بات کہتے ہوئے ڈرتا نہیں، جو بین الاقوامی امور پر بات کرسکتا ہے، جس نے کبھی پاک فوج کی مخالفت نہیں کی، جو اعلیٰ تعلیمی قابلیت کا حامل ہے، جس پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں، جس نے کوئی آف شور کمپنی نہیں بنائی، جس نے ہمیشہ اتحاد کی بات کی، جس نے پاکستان میں اور پاکستان سے باہر فلاحی ادارے بنائے، جس نے کبھی دہشت گردوں کو سپورٹ نہیں کیا۔ ۔ ۔ ایسے شخص کو سپورٹ کریں، اس کے ساتھ کھڑے ہوں چاہے اس کی ٹوپی جیسی بھی ہو، چاہے اُس کی داڑھی کی مقدار جتنی بھی ہو اور چاہے اس کا مسلک آپ کے مسلک کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔

یاد رکھیں! اگر ہم پاکستان کے دشمنوں کے پھیلائے گئے پروپیگنڈا کو دیکھتے ہوئے پاکستان سے مخلص، اعلیٰ تعلیمی قابلیت اور دُوراندیش شخص کی ذات میں کیڑے نکالنے کا کام ہی کرتے رہے تو ہمارے حالات سدھارنے کیلئے کبھی کوئی ایسا شخص نہیں آئے گا جو ہر عیب اور خامی سے پاک اور ہر بندے کے معیار کے عین مطابق ہو۔

ماڈل ٹاﺅن کیس ہو یا پانامہ کیس، جب تک ہم انہیں ایک قومی ایشو سمجھتے ہوئے سنجیدہ نہیں لیں گے تب تک ہمیں ان ظالم اور کرپٹ حکمرانوں کے ظلم و بربریت سے نجات نہیں ملے گی۔ اگر خدانخواستہ اِن دو امور کا فیصلہ کرپٹ مافیا کے حق میں ہوگیا تو مظلوم کی آواز ہمیشہ کے لئے دب کر رہ جائے گی۔

(تحریر: یونس مسعود)