کیا ڈاکٹر طاہرالقادری نے کینیڈا میں سیاسی پناہ لے رکھی ہے؟

کچھ اخبارات نے یہ مضمون شائع کیا ہے کہ سیاسی پناہ کا حلف توڑنے پر کینیڈین پولیس نے ڈاکٹر طاہرالقادری کو طلب کرلیا ہے، اور ایک خط بھی دکھایا گیا ہے جس میں لکھا ہے کہ عبدالشکور عرف طاہرالقادری جو کہ 62 سٹرانوو ڈرائیو ٹورانٹو کے رہائشی ہیں، کی شہریت معطل کردی گئی ہے، انہیں کہا جاتا ہے کہ وہ واپس آکر دوبارہ درخواست دیں۔

اس خط کی حقیقت کیا ہے؟ اس کا منہ بولتا ثبوت خط میں پائی گئی غلطیاں ہیں۔ سب سے پہلے اس تاریخ ناقابلِ یقین ہے۔ خط کے اوپر لکھی گئی تاریخ کے مطابق یہ خط 4 دسمبر کو جاری ہوا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ 4 دسمبر کو خط جاری کرنے والے نے یہ تعین کر لیا کہ ڈاکٹرطاہرالقادری پاکستان کے اندر موجود ہیں، جبکہ وہ 19 یا 20 دسمبر کو پاکستان پہنچے، اور 23 دسمبر کو ایک بڑے جلسے سے خطاب کیا۔

اس خط کی دوسری غلطی اس میں دیا گیا ڈاکٹر طاہرالقادری کا نام ہے۔ میں نے زندگی میں دنیا میں کسی حکومت کا ایسا خط نہیں دیکھا جس میں کہا گیا ہو کہ مبشر لقمان جس کو عرف عام میں پپو کہا جاتا ہے، تمہیں یہ نوٹس دیا جا رہا ہے۔ حکومتِ پاکستان کی طرف سے بھی ایسا نوٹس نہیں آتا، نادرا کی طرف سے نہیں آتا، پاسپورٹ آفس کی طرف سے نہیں آتا تو یہ کینیڈا سے کیسے آگیا؟ 4 دسمبر کو یہ خط لکھ دیا گیا۔ میں نے خط پر دیے گئے آفسز سے ملنے کی کوشش کی تاحال نہ تو کوئی آفس ملا اور نہ آئی ویلسن نامی بندہ ملا۔

پھر اس خط میں جو 62 سٹرانووڈرائیو ٹورانٹو کا ایڈریس دیا ہوا تھا، جب اس ایڈریس پر جائیں تو اس کے مالک ہیں ڈی اگیسٹینو ایلسا ہیں۔ 1969 میں انہوں نے وہ گھر خریدا تھا، تب سے وہ اپنے خاندان کے ساتھ وہاں پر رہتے ہیں، اور انہوں نے کبھی بھی اس گھر کو کرائے پر نہیں دیا۔

رہ گئی ڈاکٹرطاہرالقادری کی سیاسی پناہ کی بات، اخبار میں دی گئی تاریخ کے مطابق 2 اکتوبر 2009ء کو کینیڈین حکومت نے کیس منظور کیا اور چھ ماہ قبل یعنی 2012 میں کینیڈا کی شہریت اور پاسپورٹ دیا گیا۔ میرے پاس ڈاکٹرطاہرالقادری کے اصل ایمیگریشن پیپرز ہیں۔ جن کے مطابق 31 مارچ 1999ء کو انہوں نے شہریت دے دی۔ یہاں پر ان کے خاندان کے نام لکھے ہوئے ہیں۔ ان کاغذات میں ڈاکٹرطاہرالقادری کو ایک مزہبی راہنما بتایا گیا ہے۔ ڈاکٹرطاہرالقادری کو 2005ء میں کینیڈا کا پاسپورٹ جاری ہوا ہے۔ جب وہ اپنی قومی اسمبلی کی نشست سے استعفیٰ دیکر گئے تو انہوں نے اپنا پاسپورٹ لیا۔ امیگریشن پیپرز کے مطابق ان کی شہریت لینے کی وجہ سیاسی پناہ نہیں لکھی ہوئی۔

اخبارات اور خط میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹرطاہرالقادری کینیڈا میں عبدالشکور نام سے رہتے رہے۔ کیا طاہرالقادری اتنے گمنام شخص ہیں کہ وہ نام بدل کر رہیں اور ان کو لوگ جانتے نہ ہوں؟ برطانیہ کے وزیرِاعظم ڈیوڈ کیمرون، او آئی سی کے جنرل سیکرٹری، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل طاہرالقادری کو خراجِ تحسین پیش کریں، کیا ان سب کو خبر نہیں تھی کہ طاہرالقادری کا اصل نام کیا ہے؟ ورلڈ اکنامک فورم نے اپنے سالانہ میٹنگ کی رپورٹ شائع کی اور شرکاء کے نام دیے۔ اس میں بھی ڈاکٹرطاہرالقادری کا ایک ہی نام دیا گیا ہے۔

پھر امریکہ کی نصابی کتب میں مذاہبِ عالم کا ایک مضمون ہے جس میں اسلام کے دو چہرے دکھائے گئے ہیں۔ ایک شدت پسند گروہ کا پیش کردہ اسلام ہے اور دوسرا ڈاکٹرطاہرالقادری کا پیش کردہ اسلام ہے۔ جو دہشتگردی کی مذمت کر رہے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف فتوے بھی دے رہے ہیں۔ اس نصابی کتاب میں بھی جو نام دیا گیا ہے وہ عبدالشکور نہیں بلکہ ڈاکٹر طاہرالقادری ہے۔

 


مزید جاننے کے لیے مندرجہ ذیل ربط پر جائیں۔
http://www.minhaj.org/english/tid/20993/