قانون توہین رسالت پر متضاد بیانات؟

ڈاکٹر طاہر القادری اور توہین رسالت قانون
(ڈنمارک میں TV نیوز چینل پرانٹرویو)

سوال: ڈینش منسٹر کا کہنا ہے کہ آپ شریعہ لاء کی سپورٹ کرتے ہیں اور پاکستان میں توہین رسالت کے قانون کے بنانے میں آپ کا ہاتھ ہے اس لئے اقلیتوں کو دراصل آپ نے نقصان پہنچایا ہے۔ اور خصوصاً نوجوان عیسائی لڑکی کو جس پر قرآن (حکیم) کے اوراق جلانے کا الزام ہے۔ ڈینشن منسٹر کے اس بیان کے جواب میں آپ کیا کہنا چاہیں گے؟

جواب: میں ڈنمارک کی وزیر کے اس فیصلے پر کوئی رائے زنی نہیں کرنا چاہتا جس کے تحت اس نے اس کانفرنس میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کانفرنس میں میری حیثیت ایک مہمان کی سی ہے میں کوئی ڈنمارک کا شہری نہیں ہوں۔ یہ اس کا اپنا فیصلہ ہے لیکن مجھے یہ حق حاصل ہے کہ ڈنمارک کی متعلقہ منسٹری اور اس کے منسٹر کو اصل صورت حال کی آگاہ کروں حقیقت یہ ہے کہ انہیںمکمل طور پر غلط اطلاعات موصول ہوئی ہیں انہیں چاہیے تھا کہ اپنی معلومات کو درست کرتے۔ اصل حقیقت حال یہ ہے کہ میں صدر پاکستان ضیاء الحق کا کبھی بھی مشیر یا ایڈوائزر نہیںرہا جس نے 1980میں توہین رسالت کا یہ قانون بنایا۔ نہ ہی اس دوران میں کبھی پارلیمنٹ کا ممبر رہا۔ اگرچہ اس نے تین بار مجھے فیڈرل منسٹر بننے کی پیش کش کی لیکن میں اس کے ان دکٹیٹرانہ قوانین کا جس کے تحت وہ شرعی قوانین بنارہا تھا، سراسر مخالف تھا۔

جب یہ قانون بنایا گیا تو صدر جنرل ضیاء الحق نے کبھی مجھ سے رابطہ نہیں کیا، جنرل ضیاء الحق کا پارلیمنٹ کے ذریعے اس قانون کے بنانے میںمیرا کوئی حصہ نہیںہے۔ اس میں ذرہ برابر بھی شک نہیں ہے۔ ڈنمارک منسٹر کو یہ غلط اطلاع پہنچائی گئی کہ میں جنرل ضیاء الحق کا ایڈوائزرتھا۔

سوال: کیا توہین رسالت قانون کے بارے میںاپنی رائے کا اظہار کرنا پسند کریں گے۔

جواب: میری اس وضاحت کے بعد کہ پارلیمنٹ میں اس قانون کو بنانے میں میرا کوئی حصہ نہیں اب میں مزید وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ اس قانون کے دو پہلو ہیں۔

  1. Substantive law (بنیادی قانون)
  2. Precedence law (قانونی طریقہ کار)

جہاں تک پہلے پہلو کا تعلق ہے جس میں ایک خاص جرم اور خاص فعل (ACT) کی سزا کا ذکر کیا گیا ہے میں اس کوئی تبصرہ نہیں کروںگا۔ کیونکہ یہ کوئی شرعی قانون نہیں ہے تاہم میں اس امر کی تصحیح کرنا چاہتا ہوں کہ یہ بنیادی طو رپر بائیبل کا قانون ہے۔

سوال: اس وقت ساری دنیا اس لڑکی کے معاملے پر بحث کر رہی ہے جو عیسائی ہے اور بظاہر اس پر قرآن کے صفحات کو جلانے کا الزام ہے اس بات کا خدشہ ہے کہ اسے سزا دے دی جائے گی۔ آپ سے یہ سوال ہے کہ اس کو قانون کے مطابق سزا دینے کے عمل کی آپ حمایت کرتے ہیں یا نہیں؟

جواب: جہاں تک اس قانون کے پہلے پہلو کا تعلق ہے تو میں بتانا چاہتا ہوں کہ یہ بنیادی طور پر بائیبل کا قانون ہے۔

سوال: آپ کی شخصیت کے بارے میں متضاد آراء کیوں ہیں۔ ڈنمارک کی منسٹر کہتی ہے اوراس کا خیال ہے کہ بظاہر آپ اس قانون کی حمایت کرتے ہیں۔ میں آپ کو یہ پوچھ کر زحمت دے رہا ہوں کہ کیا آپ واقعی اس قانون کے حامی ہیں؟

جواب: میں اس قانون کے انتظامی پہلو اور اس پر عمل پیرا ہونے کے طریقہ کار پر اختلاف رکھتا ہوں۔ میرے کئی تحفظات ہیں اس قانون میں کئی اضافہ جات اور تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ جس طریقے سے اس قانون پر عمل کیا جاتا ہے۔ میں اس کی حمایت نہیں کرتا اور جس طرح اس قانون کو عیسائی اقلیت، کمزور لوگوںاور خصوصاً اس لڑکی پر غلط استعمال کیا جارہا ہے۔ میں اس کے سخت خلاف ہوں۔ اگر اس لڑکی سے کوئی ناانصافی کی گئی تو اس کی سخت مخالفت کروں گا اور میں وہ پہلا شخص ہوں گا جو پاکستان جا کر اس کے حق کے لئے اور اس کی جان بچانے کے لیے قانون کی جنگ لڑوں گا۔ میں نے کبھی بھی کسی نامنصفانہ قانون کی حمایت نہیں کی۔ یہ کرسچن لڑکی نہ صرف اقلیت سے تعلق رکھتی ہے بلکہ ذہنی مریضہ بھی ہے۔ مختلف رپورٹس اور شہادتوں کے تضادات نے سارے معاملے کو مشکوک بنا دیا ہے۔ اس لئے مجھے قوی امید ہے کہ پاکستان کی عدالت اسے کبھی بھی سزا نہیں سنائے گی اور اگر خدانخواستہ اس کے خلاف کوئی فیصلہ ہوتا ہے تو جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ میں وہ پہلا شخص ہوں گا جو اس کرسچن لڑکی کی زندگی بچانے کے لئے اور دیگر اقلیتوں کے حقوق کو تحفظ دینے کی خاطر اٹھ کھڑا ہوں گا۔

سوال: آج کل بظاہر ساری عیسائی دنیا توہین رسالت قانون کے حوالے سے بڑی پریشاں ہے۔ کیا آپ کسی پیغمبر کی توہین کرنے پر اسے کپیٹل سزا کے حق میں ہیں؟

جواب: پیغمبر کی توہین کرنے پر اس کپیٹل سزا کا اطلاق صرف حضور نبی اکرم a کی ذات اقدس کے حوالے سے ہی خاص نہیں بلکہ یہی سزا موسی e اور حضرت عیسی e اور دیگر انبیاء ورسل کی توہین کے لئے بھی ہے اور یہ سزا بائبل، انجیل اور قرآن میں موجود ہے۔

سوال: اس قانون کے تحت اب تک کتنے اشخاص کپیٹل سزا پاچکے ہیں؟

جواب: اب تک اس توہین رسالت کے قانون کے تحت گزشتہ 27 سال سے مسلم یا غیر مسلم کی ایک شخص کو بھی کپیٹل سزا نہیں دی گئی۔ میں آپ کو پاکستان کی قانونی تاریخ بیان کررہاہوں، یہ دنیا میں پاکستان کے بارے میں غلط فہمی پائی جاتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس بارے میں (Cases) رجسٹرڈ ہوتے ہیں۔ لیکن پاکستانی عدالتیں اور پاکستانی جج حضرات انتہائی ذمہ دار اور محتاط رویوں کے حامل ہیں یہی وجہ ہے کہ گزشتہ 27 سال سے کسی ایک فرد کو بھی توہین رسالت قانون کے تحت کپیٹل سزا نہیں دی گئی۔ اس سلسلے میں ایک نقطہ نظر یہ ہوتا ہے کہ جب جاہل لوگ اور انتہا پسند طبقات عوام کے جذبات ابھار کر ماحول کو کشید کر دیتے ہیں اور دہشت گردوں کے حملوں سے جانوں کے ضائع کا مسئلہ پیدا ہوجاتاہے۔ تو حکومت خود بعض افراد کی جان کی حفاظت کے لئے انہیں پولیس کی حفاظت میں دینے کاحکم دے دیتی ہے۔ جیساکہ آپ کو علم ہوگا کہ گورنر پنجاب کو خود اس کے باڈی گارڈ نے فائر کر کے ختم کردیا۔ تاہم جہاں تک گرفتار ہوکر جیل میں جانے کا تعلق ہے قتل کے اکثر(Cases) بھی غلط طور پر رجسٹرڈ کر دیے جاتے ہیں یہ پاکستان کے قانونی سسٹم کی خرابی کے باعث ہے۔یہ خرابی تیسری دنیا کے بیشتر ممالک میں عمومی طور پر پائی جاتی ہے بسااوقات اس سلسلے میں سرے سے کوئی قانون ہی موجود نہیں ہوتا پھر عدالتی طریقہ کار زیادہ تیز نہیں ہوتا۔ میں پروفیسر بننے سے قبل خود وکالت کی پریکٹس کرتا رہاہوں کئی سول مقدمات کا فیصلہ ہونے میں 25 سال تک لگ جاتے ہیں۔ چنانچہ اس طویل قانونی جدوجہد میں لوگوں کو لمبے عرصہ تک جیل میں رہنا پڑتا ہے۔ یہ معاملہ صرف توہین رسالت کس کا ہی نہیں بلکہ دیگر جرائم کے مقدمات کا بھی یہی حال ہے پاکستان میں اس سلسلے میں کوئی تفریق نہیں رکھی جاتی چنانچہ مسلمان، عیسائی، یہودی، ہندو سب کے ساتھ ایک سا سلوک کیاجاتاہے۔

سوال: مسلمانوں کو یہ بتانا کیوں ضروری ہے کہ دہشت گردی خلاف اسلام اور ایک انتہائی برا فعل ہے جب ہر مسلمان مذہبی طور پر اس برائی سے آگاہ ہے تو پھر اس بات کومزید اجاگر کرنے کی کیا وجہ ہے؟

جواب: میرے خیال میں اس کے بارے میں آگاہ کرنا بہت ضروری ہے۔ اگر اس پیغام کو سو سے بھی زیادہ یار لوگوں تک پہنچایا جائے پھر بھی کم ہے کیونکہ دہشت گرد اور انتہا پسند تسلسل سے اپنے انتہا پسندانہ نظریات کو مسلمان نوجوانوں تک پہنچا کر ان کے مذہبی جذبات کو بھڑکاتے رہتے ہیں۔ بسا اوقات عالمی سیاسی حالات، گھمبیر معاشی مسائل اور کئی دوسری وجوہات کے باعث نوجوان نسل مایوسی کا شکار ہوجاتی ہے تو ایسے میں یہ اپنے مذموم ارادوںکی تکمیل کے لئے انہیں انتہا پسندی پر ابھارتے ہیں تاکہ وہ معاشرے سے اپنی محرومیوں کا بدلہ لیں۔ وہ ان کی برین واشنگ کرتے ہیں۔ ان انتہا پسندوں نے تو کئی اسلامی اصطاحات مثلاً جہاد، خلافت وغیرہ تک کو ہائی جیک کر لیا ہے۔ یہ لوگ جمہوریت کے خلاف ہیں اس کے برعکس وہ جاہلانہ چیزوںپر یقین رکھتے ہیں اور حالت سے دلبرداشتہ مایوس نوجوانوں کو سویلین آبادی پر خود کش اور دہشت گردانہ حملوں کے لئے تیار کرتے ہیں۔ وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ان کا یہ عمل انہیں جنت میں لے جائے گا۔ انہیں اس سے باز رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ انہیں قرآن حکیم اور سنت نبوی کی حقیقی تعلیمات سے آگاہ کیا جائے اور انہیں باور کرایا جائے کہ اسلامی احکامات اور تعلیمات کے مطابق ایک شخص کا قتل کرے خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم وہ سویلین ہو یا سویلین آبادی سے تعلق رکھتا ہو حتی کہ خواہ وہ ایسی ریاست کا فوجی ہوجس کے ساتھ حالت جنگ برپا ہو لیکن وہ خود تمہارے خلاف نہ جنگ کر رہا ہو اور غیر مسلح ہوتو ایسے شخص کو قتل کرنا ساری انسانیت کو قتل کرنے کے مترادف ہے۔ اس خود کش بمبار کا یہ قاتلانہ فعل اسے جنت کی بجائے دوزخ کے گہرے گھڑے میں لے جائے گا۔ اس لئے میں چاہتاہوں کہ اس نوجوان نسل کو جو انتہا پسندی کا شکار ہورہی ہے اور جن کی برین واشنگ ہورہی ہے ان کو اس انتہائی ظالمانہ فعل سے بچائوں۔ وہ اس وقت تو انتہا پسند اور دہشت گرد نہیں لیکن انتہا پسند طبقات کے زیر اثر کل وہ خود انتہا پسند اور دہشت گرد بن سکتے ہیں۔ میں ایسا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہوں جس میں برداشت اور باہمی افہام وتفہیم پائی جائے جہاں بین المذاہب مکالمہ ہو اور ایک دوسرے کے مذہب کو برداشت کرنے کا حوصلہ پایا جائے۔ وہ پرامن طریقے سے اکھٹے رہ سکیں۔ ایسی ہی نارمل زندگی پیدا کرنے کی میں کوشش کر رہا ہوں۔ میں ایسی سوسائٹی دیکھنے کا خواہش مند ہوں جہاں انسانی عزت وقار ہو اور تمام مذاہب کی اقدار کا احترام کیا جائے۔ جہاں ہرکسی کو اظہار رائے کی آزادی ہو اور ہرکسی کے کلچر اور مذہب کا احترام کیاجائے۔ ہیومن رائیٹس کا احترام کیاجائے اور جمہوریت کی قدر کی جائے۔ چنانچہ یہ وہ وجوہات تھیں کن کے باعث میں نے فتویٰ جاری کیا جس کی بنیاد قرآن حکیم اور حدیث رسول a کی اتھارٹیز پر ہے۔ اس کے ذریعے نوجوانوں پر واضح کیا ہے کہ یہ دہشت گرد اور انتہا پسند انہیں ایسے راستے پر لے جانا چاہتے ہیں جو سراسر نہ صرف اسلام کے خلاف ہے بلکہ تمام مذاہب، انسانیت، انسانی حقوق، اخلاقیات کے بھی خلاف ہے انسانیت اور مذہب کے ایک ادنیٰ خادم ہونے کی حیثیت سے یہ میری ذمہ داری تھی۔ اب آخر میں آپ کو کرسچن اقلیت کے وہ فوٹو دکھانا چاہتاہوں جب انہوں نے منہاج القرآن پاکستان کے ہیڈکوارٹر پر Visit کیا ہم نے ان کے ہمراہ کرسمس کا کیک کاٹا ہم نے اپنی مسجد اپنے مسیحی بھائیوں کے لئے کھول دی تا کہ وہ اپنے مذہبی عقیدے کے مطابق عبادت کرسکیں۔ میں خود مسلم کرسچن ڈائیلاگ فورم کا چیرمین ہوں اگر آپ پاکستان مین بسنے والی اقلیتوں سے سوال کریں کہ ان کے حقوق کی حفاظت کے لیے جنگ لڑنے والا کوئی ہے توبرملا کہیں گے کہ اس کا نام طاہر القادری ہے۔

سوال: چنددن قبل پاکستان میں ایک جواں سال لڑکی کو ارتکاب کفر کا ملزم ٹھہرایا گیا جس نے قرآن پاک کے صفحات کو جلادیا تھا۔ شرعی اور انسانی حقوق کے حوالے سے آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے۔ بات شروع کرنے سے قبل موضوع سے متعلق آپ کی گفتگو کے 2 کلپس آپ کو دکھانا چاہیں گے۔

کلپ نمبر 1: "اس قانون پر عمل پیرا ہونے کے سلسلے میں اختیار کئے جانے والے انتظامی اور قانونی طریقہ کار سے مجھے اختلاف ہے۔ میرے کئی تحفظات ہیں اور میری رائے اس سلسلے میں مختلف ہے۔ اس قانون میں بہت سی اصلاحات اور حدود وقیود کی ضرورت ہے۔ جس شکل میں پاکستان میں اس قانون پرعمل کیا جاتا ہے میں اس کی حمایت نہیں کرتا"۔

کلپ نمبر 2: "میں نے ہمیشہ اس پر Stand لیا ہے میرا نقطئہ نظر یہ ہے کہ جو کوئی بھی توہین رسالت کا مرتکب ہو وہ مسلم ہو یا غیر مسلم یعنی مسلمان ہویا عیسائی ہو یہودی ہویا ہندو کوئی بھی ہو مرد ہویا عورت جو ؛بھی گستاخی رسول کا مرتکب ہو اس کی سزا قتل ہے۔ دوسری بات یہ کہ میرا موقف ہے کہ ہر مرتد کے لئے توبہ کی اجازت ہے، لیکن گستاخ رسول سے توبہ کا نہیں پوچھا جائے گا اسے state way قتل کردیا جائے گا۔ ایک شخص تحفظ ناموس رسالت کی خاطر لڑرہا ہے تا کہ گستاخی کے سارے راستے اور امکانات بند ہوجائیں اور جو کوئی بھی گستاخی کے لئے زبان کھولے وہ مسلمان ہو عیسائی ہو یا یہودی کوئی بھی ہو اسے سزا کے طور پر کتے کی طرح قتل کر دیاجائے گا"۔

اس میں کوئی شک نہیں جیسا کہ آپ کہتے ہیں کہ جس طریقہ کار کے ذریعے اس قانون پر عمل کرتے ہوئے ارتکاب کفر کی سزا دی جاتی ہے آپ کو اس سے اختلاف ہے لیکن کیا آپ ارتکاب کفر پر موت کی سزا کے حق میں ہیں؟ اور دونوں کلپس میں سے کون سا کلپس درست ہے۔

جواب: ان دونوں کلپس کے درست ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہے میں نے ان کلپس میں ایک میں، میں نے سزا کی Quantunins کی بارے میں پر بات کی ہے جسے قانون کی زبان میں Substantive law کہاجاتا ہے۔ دوسرے کلپس میں قانون کے نفاذ کے سلسلے میں جو میرے تحفظات میں ان کی بات کی ہے وہ اس کی ساخت، اس پر عمل، درآمدگی اور اس قانون کو کس طریقے سے استعمال کیاجاتاہے، سے متعلق ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طریقے سے اس قانون پر عمل پیرا ہونے کا اتنظامی طریقہ کار اختیار کیا جاتا ہے میں نے اس کی حمایت میں کبھی ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ جہاں تک ان کلپس میں ارتکاب کفر (توہین رسالت) پر سزا کی مقدار Quantunins کا تعلق ہے تو جیسا کہ میں نے کئی بار کہا کہ سزا کی اس مقدار Quantunins کا ذکر بائبل، انجیل اور قرآن مجید تینوں آسمانی کتب میں بیان کیاگیا ہے چنانچہ یہودیت عیسائیت اور اسلام اس حوالے سے ایک سطح پر ہیں اور بطور Believer میں سزا کی اس مقدار کی تردید نہیں کرسکتا۔ لیکن جیسا کہ میں نے کہامجھے اس قانون پر عمل پیرا ہونے کے لئے جوانتظامی طریقہ کار اختیار کیا جاتا ہے اس سے اختلاف ہے۔ میرا نقطہ نظر ان کلپس سے بالکل عیاں ہے۔ اس حوالے سے جس طرح قانون کا غلط استعمال کیا جاتا ہے۔ میں نے اپنی اسی چھ گھنٹے کی تقریر میں اس پر شدید تنقید کی ہے۔

سوال: کیا پیغمبر  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی توہین کرنے پر آپ کپیٹل سزادینے کے حق میں ہیں؟

جواب: جہاں تک کپیٹل سزا دینے کا تعلق ہے تو یہ سزا خود امریکہ کی 35 ریاستوں میں دی جاتی ہے۔

سوال: ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں یہ کپیٹل سزا توہین رسالت کی وجہ سے نہیں دی جاتی بلکہ یہ دیگر جرائم کے حوالے سے دی جاتی ہے؟

جواب: مجھے علم ہے کہ یہ سزا امریکہ میں توہین رسالت کے قانون کے تحت نہیں بلکہ کئی دوسرے جرائم کے باعث دی جاتی ہے۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ امریکہ میں 1976 سے لے کر 2012 تک 1400مجرموں کو مختلف جرائم کے باعث سزائے موت دی جا چکی ہے۔

سوال: امریکہ میں تو موت کی سزا کسی پیغمبر کی توہین کرنے پر نہیں دی گئی کیا آپ کی رائے میںتوہین رسالت کی سزا موت ہے۔ مثلاً اخبار میں پیغمبر کا کارٹون بنانا؟

جواب: اس سلسلے میں پہلی بات تو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ توہین رسالت کا قانون پاکستان میں 28/27 سال قبل بنایا گیا تھا تب سے اب تک کسی ایک شخص کو بھی اس قانون کے تحت موت کی سزا نہیں دی گئی، یہ بات ریکارڈ پر ہے۔ پاکستان کی عدلیہ انتہائی باشعور، دانش مند اور ذمہ دار ہے اور اس کے جج صاحبان اس قدر منصف مزاج ہیں کہ آج کے دن تک کسی شخص کو بھی توہین رسالت کے جرم میں موت کی سزا نہیں دی گئی۔

سوال: ہم نے توہین رسالت اور اس کپیٹل سزا کے بارے میں اچھی طرح سمجھ لیا ہے اور یہ بھی کہ اس قانون پر عمل درآمدگی کے حوالے سے آپ کے تحفظات ہیں۔ آپ کوعلم ہوگا کہ توہین رسالت کے بارے میں ڈنمارک کا نقطہ نظر پاکستان سے بالکل مختلف ہے۔ آپ کے نزدیک کیا توہین رسالت کے بدلے میں سزائے موت دی جائے گی۔ جیسے نیوز پیپر میں کارٹون شائع کرنے کا معاملہ ہے۔

جواب: جہاں تک ڈنمارک کے نیوز پیپر میں کارٹون شائع کرنے کا مسئلہ ہے مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیںکہ ڈنمارک مسلمان ملک نہیں ہے اور یہاں کسی مسلم اقلیت کو کوئی حق نہیں کہ وہ ڈنمارک میں اسلامائزیشن کی بات کرے۔ ڈنمارک میں شریعت کا نفاذ نہیں کیا سکتا۔ اسلامی قوانین او راس کی سزائوں کا سسٹم یہاں کبھی لاگو نہیں ہوسکتا۔ یہ تو اسلامی ملک کا معاملہ ہے میں جمہوریت پر یقین رکھتا ہوں یہ پارلیمنٹ کا حق ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ کیا قانون بنانا ہے اور کیا نہیں بنانا اور کسی جرم کے لئے کیا سزا مقرر کرنی ہے او رکیا سزا مقرر نہیں کرنی۔ اسی طرح ڈنمارک کی پارلیمنٹ کا اپنا حق ہے۔ اس سلسلے میں وہ آزاد ہے چنانچہ میں کہوں گا کہ ڈنمارک میں کارٹون شائع کرنے والے پبلیشر اوراس کے اخبار کو کوئی سزا نہیں دی جا سکتی کیونکہ یہ کوئی مسلمان ملک نہیں ہے۔

سوال: اگر کوئی ایسا کارٹون پاکستان میں بنائے یا قرآن کے اوراق جلائے تو کیا وہاں اس کی سزا موت ہوگی؟

پاکستان میں ہم ان قوانین کی طرف رجوع کریں گے جو اس کی پارلیمنٹ نے بنائے ہوں گے۔ لیکن یہاں مسئلہ یہ ہے کہ یہ امر ممکن بنانا ہوگا کہ ملک کے قانون پر عمل درآمدگی کے سلسلے میں ایک کوئی غلط الزام تو نہیں لگادیا گیا۔ مثال کے طور پر اسی کیس میں اس لڑکی کی عمر 9سال بتائی جاتی ہے۔ اور وہ ذہنی مریضہ بھی تھی۔ اگر واقعتا یہی کیس تھا تو پھر اسلامی قوانین کے تحت اسے کوئی سزا نہیں دی جاسکتی۔ دوسری چیز یہ ہے کہ اس سلسلے میں بڑی واضح شہادتیں درکار ہوتی ہیں۔ بسا اوقات قوانین کو غلط طور پر استعمال کیا جاتاہے ۔ بعض اوقات سیاسی طور پر مضبوط لوگ اقلیتوںاورغریب لوگوں پر غلط الزام تراشی کرتے ہیں۔ وہ دراصل غلط طور پر اس قانون کو اپنے کسی ذاتی انتقام کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ قانون کایہ غلط استعمال کلیتاً بند ہونا چاہیے اس کے لئے قوانین میں بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ تا کہ نہ تو اقلیتوں کا استحصال کیاجا سکے۔ اور نہ ہی انہیں خوف زدہ اور پریشان کیا جاسکے۔

اور ایسا ہرفعل جو اقلیتوں کے حقوق کے خلاف ہو، اسلامی قوانین کے تحت اس کو روکا جائے۔ چنانچہ اسلام ہرگز اس بات کی اجازت نہیںدیتا کہ قانون کو غلط طورپر اقلیتوں کے خلاف استعمال کیا جائے، یہی قرآن حکیم کا قانون ہے اور یہی نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی سنت ہے، جہاں یہ قانون غلط طور پر استعمال ہوتا ہے وہیں دوسرے کئی قوانین کو بھی غلط طور پر استعمال کیاجاتا ہے۔ سوسائٹی کے بااثر افراد قوانین سے غلط فوائد اٹھاتے ہیں۔ وہ اس سلسلے میں پولیس افسران پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ مغربی سوسائٹی کے مقابلے میں پاکستانی سوسائٹی میں صورت حال بالکل مختلف ہے۔ اسی لئے میں کہتاہوںکہ ان قوانین کے ڈھانچے اور انتظامی طریقہ کار میں تبدیلی کے لئے بڑی احتیاط کی ضرورت ہے۔

سوال: یہ لڑکی عیسائی اقلیت سے تعلق رکھتی ہے اس کی عمر جتنی بھی ہے خواہ 16یا 18 برس کی ہو، کیا وہ اس قانون کے مطابق سزا کی مستحق ہے جس کا ذکر آپ نے چند ماہ قبل اپنی تقریر میں کیا ہے؟

جواب: مختلف اخبارات میں جو حقائق رپورٹ کئے جارہے ہیں ان کی روشنی میں اس پر ارتکاب کفر کا الزام ثابت نہیں ہوتا اگر میں جج ہوتا تو میں اسے بری کردیتا اور اگر اس کے کسی کاروائی کا خلاف کوئی فیصلہ کیاجاتا ہے تواس کی زندگی بچانے کے لئے میں پوری جدوجہد کروں گا۔

سوال: میرا سوال ہے کہ کیا اس کو شرعی قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے؟

جواب: میں کہوں گا کہ یہاں شرعی قوانین کے لاگو کرنے کی بات کیوں کی جاتی ہے پاکستان کے قوانین کی بات کیوں نہیںکی جاتی۔ جس ملککے صدر آصف علی زرداری ہیں۔ 25 سال سے زیادہ کا عرصہ بیت چکا ہے۔ کئی جمہوری حکومتیں آچکی ہیں انہوں نے دستور میں درجنوں تبدیلیاں کی ہیں۔ یہ باقاعدہ منتخب حکومتیں تھیں اور میں متواتر کئی بار کہہ چکا ہوں کہ اس قانون پر عمل کرنے کے سلسلے میں تبدیلیاں کی جائیں۔

سوال: اگرکسی پرتوہین رسالت کا الزام لگ جائے تو آپ کی رائے میں کیا اسے کپیٹل سزا دی جانی چاہیے؟

جواب: میں دوبارہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر ڈنمارک کے کسی اخبار میں ایسے کارٹون شائع ہوتے ہیں تو ہمیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ اپنے اسلامی قوانین کو ڈنمارک کی سوسائٹی پر نافذ کریں۔ اسی طرح ڈنمارک کی سوسائٹی کو بھی دوسرے ملکوں کی پارلیمنٹس کا احترام کرنا چاہیے ڈنمارک کے اخبارات کو جمہوریت کا احترام کرنا چاہیے اور اگر کسی جانب سے کوئی غلط فہمی ہے تو مذاکرات کا راستہ استعمال کرنا چاہیے اوراس سلسلے میں جمہوری انداز میں معاملات پر Discussion کرنا چاہیے بجائے اس کے کہ ہم ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت کرنا شروع کردیں۔ چنانچہ پاکستان کو کوئی حق حاصل نہیں کہ وہ ڈنمارک کے قانون آزادی اظہار رائے میں مداخلت کرے اور اسی طرح ڈنمارک کے اخبارات اور سوسائٹی کو بھی کوئی حق حاصل نہیں ہونا چاہیے کہ وہ پاکستان کے قوانین میں مداخلت کرے۔ ہمارے لئے آپس میں بات چیت کا مشترکہ پلیٹ فارم موجود ہے۔ ہم جمہوری انداز میں حکومتی اور پارلیمنٹ کی سطح پر بھی ایک دوسرے کے ساتھ اپنے اپنے نقطئہ نظر کے حوالے سے تبادلہ خیالات کر سکتے ہیں لیکن ایک ملک کے قوانین دوسرے ملک پر زبردستی نہیں ٹھونس سکتے۔ میں مکمل طور پر جمہوری شخص ہوں، جمہوریت پر اور دوسرے ملک کے قوانین میں عدم مداخلت پر یقین رکھتاہوں۔