شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری

تفصیلی تعارف کیلئے یہاں کلک کریں

یہاں آپ یہ جان سکیں گے کہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے اسلام کے پیغام اعتدال و توازن پر کاربند رہتے ہوئے تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بکھری ہوئی امت کو ہر قسم کی انتہاپسندی سے بچانے اور امت واحدہ کی لڑی میں پرونے کے لئے ساری زندگی وقف کئے رکھی، جبکہ دشمنان اسلام کی مکروہ پلاننگ، فرقہ پرستی میں ڈوبے علمائے سو کی طرف سے حسد و لالچ اور سیاسی مفادپرست ٹولوں کی دکان داری بند ہونے کے خوف کی بناء پر اس کے صلے میں ان کے خلاف کس قسم کی تنقید ہوتی رہی، اور عامۃ المسلمین کم علمی و ناسمجھی کی بناء پر ان سے متاثر ہونے لگے۔

ڈاکٹر طاہرالقادری کے نظریات

  1. شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری ایک مسلمان سنی سکالر ہیں، مگر وہ خود کو بریلوی اور دیوبندی فرقوں کی بندشوں سے آزاد ایک عام مسلمان قرار دیتے ہیں۔
  2. ان کے مطابق اپنا عقیدہ چھوڑو مت اور دوسروں کا عقیدہ چھیڑو مت کی پالیسی اتحاد امت کے لئے ناگزیر ہے۔
  3. ان کے مطابق اسلامی تصوف کی روح نفس کی پاکیزگی سے عبارت ہے، جو شریعت کی پاسداری کے بغیر ناممکن ہے۔ اسی بناء پر وہ تصوف کو کاروبار بنانے والوں کو جاہل اور گمراہ قرار دیتے ہیں۔
  4. ان کے مطابق اسلام قیام امن کا سب سے بڑا داعی ہے۔ اور جہاد کے نام پر دہشت گردی کا بازار گرم کرنے والے گروہ مسلمان تو کجا انسان بھی کہلانے کے مستحق نہیں۔
  5. آپ کے مطابق دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں۔ آپ نے متعدد بار واضح طور پر اسامہ بن لادن کی کارروائیوں کی مذمت بھی کی۔
  6. ان کے مطابق اسلام حقوق نسواں کا واحد علمبردار مذہب ہے، جو آزادی نسواں کے نام پر عورت کی تذلیل کرنے کی بجائے صحیح معنوں میں اسے مرد کے برابر معاشرتی حقوق دیتا ہے۔
  7. ان کے مطابق اسلام کا اصول مشاورت اسلامی نظام حیات کی روح ہے۔ اسلامی فلاحی معاشرے کے قیام کے لئے فرد واحد کے فیصلوں کی بجائے تمام فیصلوں میں اجتماعی مشاورت ناگزیر ہے۔
  8. ان کے مطابق انتہاء پسندی کے خاتمے کے لئے بین المذاہب رواداری نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے خود عملی طور پر مسلم کرسچئن ڈائیلاگ فورم بنا رکھا ہے اور وہ مسیحیوں کے مسجدوں میں آ کر عبادت کرنے کو حدیث نبوی کی بنیاد پر جائز قرار دیتے ہیں۔
  9. ان کے مطابق اسلامی نظام معیشت آج کے دور میں بھی قابل عمل ہے۔ اس سلسلے میں آپ نے بلاسود بینکاری نظام بھی پیش کیا۔
  10. ان کے مطابق اسلام کو آج کے دور میں قابل عمل دین ثابت کرنے کے لئے اسلام کی مذہبی، سماجی اور ثقافتی اقدار کے فروغ کے ساتھ ساتھ سائنسی بنیادوں پر اسلام کی تعبیر کی ضرورت ہے۔
  11. جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی کے مصداق، ان کے مطابق سیاست اسلام کا حصہ ہے، جسے دین سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔

ڈاکٹر طاہرالقادری پر تنقید

  1. ان کی طرف سے یزید اور اس کے حمایتیوں کو لعنتی قرار دیئے جانے پر ان علمائے سو کی دل آزاری ہوئی جو یزید کے لئے رضی اللہ عنہ کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔
  2. اتحاد امت کی کوششوں اور شیعہ علماء سے اچھے تعلقات کی بناء پر شیعہ مخالف گروہوں نے ان پر تنقید کی۔
  3. گستاخی رسول کے مرتکب نہ ہونے والے عام دیوبندی علماء کو مسلمان سمجھنے اور ان کے پیچھے نماز پڑھنا جائز قرار دینے کی وجہ سے بریلوی مکتبہ فکر کے بعض علماء نے انہیں اہل سنت سے خارج قرار دیا۔
  4. بین المذاہب رواداری کے فروغ بارے کوششوں پر انتہاء پسند مذہبی فکر رکھنے والے طبقے کی طرف سے بھی انہیں تنقید کا سامنا ہے۔
  5. علمی و فکری حوالوں سے ان کے معترف ہونے کے باوجود عوام کی زبان پر یہ جملہ رہا کہ ان جیسے شخص کو ملک کی گندی سیاست میں نہیں آنا چاہیئے تھا۔ دوسری طرف پاکستان عوامی اتحاد کی سربراہی اور بعد ازاں قومی اسمبلی کی رکنیت تک پہنچنے کے بعد سیاست سے دستبردار ہونے کے اعلان پر ملکی سیاست میں تبدیلی کے خواہشمند طبقے کو بھی دھچکا لگا۔
  6. شیخ الاسلام نے 2010ء میں دہشت گردی کے خلاف فتوی جاری کرکے اسلام دشمن طاقتوں اور خارجیوں کی طرف سے گزشتہ کئی سالوں سے اسلام کو دہشت گرد مذہب ثابت کرنے کی کوششوں پر پانی پھیر دیا۔ چنانچہ عالمی سطح پر اسلام دشمن طاقتیں باہم سر جوڑ کر بیٹھیں اور باقاعدہ منصوبہ بندی کرکے کم و بیش ہر فرقے کے لوگوں کو خرید کر انہیں شیخ الاسلام کو خارج از اسلام قرار دینے کے لئے فتوے لگانے کی ذمہ داری دی اور وہ بہانے بہانے سے انہیں اسلام سے خارج قرار دینے لگے۔
  7. جب مفادپرست علمائے سو کو قرآن و سنت کی دلیل سے ہر سول کا جواب دیا جاتا ہے اور ان کے پاس مخالفت کیلئے کوئی دلیل نہیں بچتی تو آپ کو ایک مسلک سے منسلک ہونے کا طعنہ دیا جاتا ہے، حالانکہ بعینہ وہی مسلک علامہ اقبال کا بھی تھا۔

why-propaganda-against-dr-tahir-ul-qadri
حقیقت یہ ہے کہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے اپنے آپ کو دوسرے روایتی مذہبی اور سیاسی لیڈروں کی طرح نہیں ڈھالا بلکہ آپ نے حقیقتاً حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین کی خدمت کی ہے۔ آپ کے اسی خلوص کی بدولت آج تحریک منہاج القرآن کی شاخیں، مراکز اور رفقاء و وابستگان دنیا کے 90 سے زائد ممالک میں ہیں۔ آپ کی 425 سے زائد تصانیف مختلف زبانوں میں شائع ہو چکی ہیں مزید 700 کے قریب مسودات برائے طباعت پڑے ہیں۔ سینکڑوں موضوعات پر 5000 سے زائد آڈیو، ویڈیو خطابات وجود ہیں۔ یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہی ہے کہ اپنوں اور غیروں کی بے پناہ پروپیگنڈا کے باوجود آپ کی تحریک منہاج القرآن امت مسلمہ کے لئے صدیوں تک مینارہ نور رہنے والی فکری، اصلاحی، تجدیدی اور احیائی تحریک بن چکی ہے۔