منہاج القرآن انٹرنیشنل : احیائے دین کی عالمگیر جدوجہد

minhaj-ul-quranدورِ حاضر میں حق و باطل کی اَزلی و اَبدی کشمکش پر نظر دوڑائی جائے تو آج کل ہمیں یہ تصادم اپنے عروج پر دکھائی دیتا ہے، برائی بڑھتی ہوئی اور شر اپنے پَر پھیلاتا نظر آتا ہے، امانت و دیانت اور عدل و اِنصاف رختِ سفر باندھ چکے ہیں، شرافت و صداقت کی جگہ جھوٹ اور ریاکاری نے لے لی ہے، نمائش و دکھلاوے نے طاعت و تقویٰ کو رخصت کر دیا ہے، امن و سکون فتنہ و فساد کی نظر ہو چکا ہے، عصمت و حیا پر فحاشی و عریانی غالب آگئی ہے، برائی کی رغبت نے عبادت کا ذوق سلب کر لیا ہے، سجدہ ریزیوں کی جگہ تکبر نے لے لی ہے، تواضع و اِنکساری آج خودپسندی میں بدل گئی ہے، جہالت ہدایت کا بھیس بدل کر گمراہی کو عام کر رہی ہے، عقیدہ و سوچ میں لادینیت نمایاں ہونے لگی ہے، عمل میں صالحیت کی جگہ فسق و فجور بڑھ رہا ہے، برائی کے عوامل کثیر ہو گئے ہیں، باطل کئی شکلوں میں امت کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے، مادیت و عقل پرستی عقیدت پر حملہ آور ہے، اَخلاقی قدریں مٹتی جا رہی ہیں، معیشت پر قارونیت اور سیاست پر فرعونیت کا غلبہ ہو چکا ہے، تہذیب و ثقافت کو لچر پن اور جنسی بے راہ روی نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، سوچ کے دھارے بدل گئے ہیں، الغرض دینی سطح ہو یا دُنیوی، سارا ماحول شیطان کے تابع نظر آتا ہے۔ یہ تمام حالات و واقعات دورِ فتن کی علامات ہیں، جن کی نشاندہی پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے ہی فرما دی تھی۔موجودہ دور میں کوئی شخص اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا کہ پوری دنیا سمٹ کر ایک گاؤں بن چکی ہے۔ یہاں ہر انفرادی جدوجہد بھی کسی نظام کے تحت اجتماعی جدوجہد کا حصہ ہوتی ہے۔ اس دورِ فتن میں زندگی کے ہر شعبے کی طرح شیطان اور شیطانی قوتیں حق کے خلاف اجتماعی اور منظم انداز میں برسر پیکار ہیں۔ باطل کبھی کلچر کے نام پر، کبھی جدت اور روشن خیالی کے عنوان سے، کبھی جمہوریت اور اظہارِ رائے کی آزادی کے موضوع سے، کبھی حقوقِ نسواں کا جھنڈا بلند کر کے اور کبھی دہشت گردی اور انتہا پسندی کا لیبل لگا کر سینکڑوں اِجتماعی کوششوں کے ذریعے حق اور اہل حق کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی جدوجہد کر رہا ہے۔ آج اہلِ حق علمی، فکری، نظریاتی اور اعتقادی ہر سطح پر بے شمار حملوں کی زد میں ہیں۔

لہٰذا ایسے دور میں محض اِنفرادی جدوجہد سے ایمان بچانا ناممکن ہے۔ اس اِجتماعی پرفتن دور میں انفرادی تقویٰ کی آرزو ایک حسین فریب ہی ہو سکتا ہے۔ لہٰذا دورِ حاضر کا تقاضا ہے کہ جیسے کفر اور شیطانی طاقتیں متحد ہو کر اِسلام کے خلاف جس جس سطح پر حملہ آور ہیں، اہلِ حق بھی اُن کے مقابلے میں ہر اُس سطح پر اِجتماعی جدوجہد کریں۔ اگر آج ہم اپنے اور اپنی آنے والی نسلوں کے اِیمان کا تحفظ چاہتے ہیں تو ہمیں کفر کے خلاف متحد ہو کر اِجتماعی جدوجہد کرنا ہوگی اور اِجتماعی جدوجہد ایک منظم تحریک یا جماعت ہی کے ذریعے کی جا سکتی ہے۔ اللہ تعالی نے بھی خیر اور بھلائی کے کام کو مل کر انجام دینے کے بارے میں ارشاد فرمایا :

’’اور نیکی اور پرہیز گاری (کے کاموں ) پر ایک دُوسرے کی مدد کیا کرو۔‘‘

اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی حکم دیا ہے کہ :

’’اللہ تعالیٰ اِس اُمت کو کبھی بھی گمراہی پر اکٹھا نہیں فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ کا دستِ قدرت جماعت پر ہوتا ہے۔ پس سب سے بڑی جماعت کی اِتباع کرو اور جو اُس جماعت سے الگ ہوتا ہے وہ آگ میں ڈال دیا جاتا ہے۔‘‘

گویا دور فتن میں راہ نجات کے حصول کے لئے کسی جماعت میں شمولیت ضروری ہے۔

ہم کون سی جماعت میں شامل ہوں؟

College-of-Shariah-and-Islamic-Sciences-Minhaj-university-Lahore_Gosha-e-Duroodاب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ موجودہ دور فتن میں وہ کون سی جماعت ہے جو ہمیں منزل تک پہنچا سکے گی۔ جماعت کے انتخاب کے سلسلہ میں قرآن و حدیث نے ہمیں شرائط اور معیار عطا فرمائے ہیں۔ وہی جماعت، تحریک یا تنظیم منزل تک پہنچا سکتی ہے جو امر بالمعروف (نیکی کا حکم دے) اور نہی عن المنکر (برائی سے روکے)، جو جماعت تجدید و احیاء دین کا فریضہ سر انجام دے رہی ہو وہی قوم کو زوال کی گہرائیوں سے نکال سکتی ہے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

’’اللہ تعالی اِس اُمت کے لیے ہر صدی کے آخر میں کسی ایسے شخص (یا اَشخاص) کو پیدا فرمائے گا جو اس (اُمت) کے لیے دین کی تجدید کرے گا۔‘‘

جو تحریک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات سے عشق و محبت اور ادب اطاعت کا تعلق قائم رکھے اور حضور کی امت کو بھی سوئے حرم لے جانے کا راستہ جانتی ہو۔ یقینًا ایسی تحریک اور جماعت ہی اس دورِ فتن میں راہِ نجات ہے۔

اِلٰہی تیرے یہ سادہ دل بندے کدھر جائیں؟

جب ہم دور حاضر میں موجود جماعتوں اور تحریکوں کا جائزہ لیتے ہیں اور کسی ایک جماعت میں شمولیت کا ارادہ کرتے ہیں تو ہمیں لاتعداد تنظیمیں، جماعتیں اور تحریکیں موجود نظر آتی ہیں مگر اکثر تحریکوں اور جماعتوں میں مقصدیت کا فقدان ہے ان کی منزل واضح نہیں ہے۔ وہ کبھی ہتھیار اٹھا کر دہشت گردی پر اتر آتے ہیں تو کبھی اپنے ہی مسلمان بھائیوں کو کافر و مشرک قرار دے کر دائرہ اسلام سے خارج کر دیتے ہیں۔ کئی تحریکیں ایسی ہیں جن کی بنیاد اور اصل ہی فرقہ پرستی ہے، ایک محدود دائرے کے اندر چند مسلکی مقاصد کو پورا کرنے یا دوسرے مسلک کو ختم کرنے کے لئے قائم کی گئی ہیں۔ ایک اور واضح نقص جو موجود تحریکوں اور جماعتوں میں دکھائی دیتا ہے وہ دینی تعلیم کا محدود تصور ہے۔

قرآن و حدیث کی خدمت کے نام پر قائم بہت سی تحریکیں اور جماعتیں ایسی ہیں جو بات تو قرآن و حدیث کرتی ہیں مگر معاشرے میں رائج دیگر تمام علوم کی نفی کرتی ہیں اور عملاً اس نصاب کو اپنے مدارس میں رائج نہیں ہونے دیتیں، لہٰذا دینی تحریکوں کے کارکن اور ان کے مدارس سے فارغ ہونے والے طلباء معاشرے سے الگ اور جدا نظر آتے ہیں۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اپنے رب کی بارگاہ میں عرض کریں کہ رَبّ زِدْنِی عِلْمًا (اے میرے رب میرے علم میں اضافہ فرما) اور ہم اپنے آپ کو علم کی دنیا سے دور رکھیں۔ الغرض بعضوں کی سوچ محدود ہے تو بعضوں کا دائرہ کار، بعض اتحاد امت کے نام پر امت کو فرقوں میں تقسیم کر رہے ہیں تو بعض اپنے ہی مسلمانوں کا گلا کاٹنے کو عبادت و بندگی اور افضل جہاد سمجھ رہے ہیں۔ امید صبح نو ان حالات میں جب ہم اﷲ کے حضور راہ نجات طلب کرتے ہیں تو ہمیں امید کی آخری کرن تحریک منہاج القرآن ہی دیکھائی دیتی ہے جب ہم اس کی ربع صدی سے زائد تاریخ کو دیکھتے ہیں تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اس نے آج تک کسی کو کافر و مشرک نہیں کہا، دنیا بھر کے 100 سے زائد ممالک میں قرآن و سنت کی تعلیمات کو پہنچا دیا ہے مگر آج تک اس کا کوئی کارکن کسی دہشت گردی کے عمل میں ملوث نہیں پایا گیا، اس نے مسلمانوں کو مسلک کے دائرے سے نکال کر امت کی لڑی میں پرویا ہے، اس نے جہاں قرآن و حدیث کے نور کو عام کیا ہے وہاں دنیا بھر میں جدید یونیورسٹیز، کالجز، سکولوں اور اسلامک سنٹروں کی شکل میں قوم کو علم و شعور کے نور سے نئی سوچ عطا کی ہے۔ اس نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ بھی سر انجام دیا ہے اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کا حضور سے ٹوٹا ہوا تعلق پھر سے جوڑ دیا ہے۔

تحریک منہاج القرآن کیا ہے؟

اکتوبر 1980ء میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری مدظلہ العالی ادارہ منہاج القرآن کے نام سے تحریک منہاج القرآن کا قیام عمل میں لائے۔ تحریک منہاج القرآن وہ واحد تحریک ہے جس نے امت مسلمہ کے ہر ہر طبقے اور ہر ہر فرد کو انفرادی اور اجتماعی سطح پر امت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کا شعور عطا کیا ہے۔ دور حاضر میں تحریکِ منہاج القرآن نیکی اور خیر کے فروغ کے لیے منظم انداز میں ملک اور بیرون ملک بھرپور جدوجہد کر رہی ہے۔

فورمز

تحریک نے ہر طبقے کے لیے الگ الگ فورم قائم کیا ہے تاکہ ہر شخص اپنے مزاج اور صلاحیت کے مطابق اپنی کوشش کو اجتماعی عمل کا حصہ بنا سکے۔ تحریک منہاج القرآن نے دین سے لگاؤ اور امت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کا جذبہ رکھنے والوں کے لئے تحریک کا پلیٹ فارم مہیا کیا ہے۔ ملک بھر کے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو مثبت سمت دکھانے اور ان میں قومی اور ملی خدمت کا جذبہ پیدا کرنے کے لئے منہاج القرآن یوتھ لیگ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ معاشرے کے موثر اور باعزت طبقے علماء کرام، جو تبلیغ دین کا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں، ان علماء کی انفرادی جدوجہد کو عالمی سطح پر غلبہ دین حق کی بحالی کی جدوجہد کا حصہ بنانے کے لئے منہاج القرآن علماء کونسل قائم کی گئی ہے۔ نوجوان اور خصوصًا طلباء کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں ان کی اصلاح کے لئے مصطفوی سٹوڈنٹ موومنٹ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ موجودہ دور زوال میں خواتین میں خدمت دین کا جذبہ ابھارنے اور انہیں بھی قومی و ملی ترقی کے عمل میں شامل کرنے کے لئے منہاج القرآن ویمن لیگ جنوری 1988ء سے جدوجہد کر رہی ہے۔ اسی طرح دکھی انسانیت کی خدمت کے لئے منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن اور ظلم میں پسے ہوئے عوام کی مدد کے لئے عوامی لایرز موومنٹ اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہے۔ تحریک کے فورمز کا اجمالی خاکہ کچھ یوں ہے :

  1. منہاج القرآن علماء کونسل (MUC)
  2. منہاج القرآن ویمن لیگ (MWL)
  3. منہاج القرآن یوتھ لیگ (MYL)
  4. مصطفوی سٹودنٹس موومنٹ (MSM)
  5. پاکستان عوامی تحریک (PAT)
  6. پاکستان عوامی لایرز موومنٹ (PALM)
  7. منہاج ویلفئیر فاؤنڈیشن (MWF)
  8. مسلم کرسچن ڈائیلاگ فورم (MCDF)
  9. کونسل آف مسلم انجینئرز اینڈ ٹیکنالوجسٹس (COMET)

عالم گیر سطح پر قرآن و سنت کی دعوت

تحریک منہاج القرآن کا امتیاز یہ ہے کہ یہ دنیا کے جدید ذرائع علم سے استفادہ کرتی ہے مگر اس کی اصل بنیاد قرآن و سنت ہے۔ ملک بھر میں ربع صدی سے زائد دور میں پہلے خود حضور شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے ہر ہر شہر میں دروس قرآن دیئے اور اب ان کے تربیت یافتہ شاگرد ملک کے کونے کونے میں دروس عرفان القرآن کے ذریعے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کا قرآن سے ٹوٹا ہوا تعلق بحال کر رہے ہیں۔ اس وقت ملک بھر میں 250 سے زائد مقامات پر ماہانہ دروس عرفان القرآن جاری ہیں یہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کرم ہے کہ آج دنیا بھر کے کسی ملک میں اگر نوجوان نسلوں کے ایمان کے تحفظ کے لئے کوئی تحریک جہاد کر رہی ہے تو وہ تحریک منہاج القرآن ہے۔ 80 سے زائد ممالک میں باقاعدہ تنظیمی نیٹ ورک جبکہ 100 سے زائد ممالک میں دعوتی کام زور و شور سے جاری ہے۔

اخلاقی و روحانی اقدار کا احیاء

جس دور میں تصوف کاروبار بن چکا تھا اس دور میں تحریک منہاج القرآن کے بانی حضرت شیخ الاسلام نے تصوف پر 30 سے زائد کتب لکھ کر جہاں اس کا علمی و فکری دفاع کیا وہاں مسنون اعتکاف، شب بیداریوں اور روحانی اجتماعات کے ذریعے اس کو عملاً زندہ بھی کیا ہے۔

تعلیمی خدمات

تحریک منہاج القرآن نے قرآن و حدیث اور جدید عصری علوم کو یکجا کرنے کے لئے دنیا بھر میں تعلیمی ادارے قائم کئے ہیں۔ منہاج یونیورسٹی ملک کی وہ واحد یونیورسٹی ہے جو کسی مذہبی تحریک نے قائم کی اور حکومت نے اسے چارٹر دیا ہے۔ اس کے علاوہ ملک کے ہر ضلع اور تحصیل میں 572 سے زائد سکول اور دیگر تعلیمی ادارے فروغ علم میں مصروف عمل ہیں اس کے علاوہ دنیا بھر میں 40 سے زائد اسلامک سنٹر بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں دینی اقدار کے فروغ کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ سفیر عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تحریک منہاج القرآن کا اصل امتیاز یہ ہے کہ اس نے عقیدہ رسالت پر ہونے والے ہر حملے کا نہ صرف دفاع کیا ہے بلکہ حقیقی معنوں میں حضور کی امت کا حضور سے ٹوٹا ہوا تعلق جوڑ دیا ہے۔ تحریک نے مناظرے کرنے کی بجائے دلائل کے ذریعے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کو یوں اجاگر کیا کہ کل جنہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذکر کی توفیق نہ تھی آج ہر کوئی محفل حمد و نعت سجا رہا ہے۔ تحریک نے نہ صرف لوگوں میں عشق و محبت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فروغ دیا ہے بلکہ نوجوانوں کے کردار کو بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کردار کے نور سے منور کیا ہے۔ گزشتہ ربع صدی سے دنیا کی سب سے بڑی محفل میلاد کے انعقاد کی سعادت بھی تحریک کو حاصل ہے۔ روئے زمین پر حرمین شریفین کے بعد تحریک منہاج القرآن کا گوشہ درود وہ منفرد مقام ہے جہاں دسمبر 2005ء سے ہر لمحہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اقدس پر درود شریف پڑھا جا رہا ہے۔ چوبیس گھنٹے سیکڑوں لوگ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود پڑھنے میں مصروف ہیں۔

Secritariat-Minhaj-ul-Quran-International_Lahore

سفیر امن

تحریک منہاج القرآن ہمیشہ امن عالم اور اخوت و مودت کی داعی رہی ہے۔ یہ ہر سطح پر تشدد، فرقہ واریت، تنگ نظری، انتہاء پسندی اور دہشت گردی کی مذمت اور نفی کرتی ہے۔ یہ تصوف اور امن کی پیکر ہے، اس کا ذوق صوفیانہ ہے۔ صوفیاء امن و سلامتی کے پیکر تھے، ان کے خزانے میں سب کچھ تھا مگر انسانیت سے نفرت نہ تھی، جبر و تشدد اور بندوق نہ تھی۔ ان کے پاس نگاہ کی تلوار تھی جس سے وہ انتہاء پسندی، دہشت گردی اور نفرت کا گلا کاٹتے رہے۔ ان کے پاس محبت، پیار، الفت، تقویٰ و کردار تھا جس سے وہ لاکھوں دلوں کو فتح کرتے رہے۔ تحریک منہاج القرآن اسلام کی انہی حقیقی تعلیمات کا پرچار کرتی ہے۔ یہ دنیا کی واحد تحریک ہے جو اسلام کا حقیقی چہرہ دنیا کو دکھانے پر محنت کر رہی ہے۔ اس کا عقیدہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا ہے، سو یہ کیسے ممکن ہے کہ سارے جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجی جانی والی ہستی کو ماننے والے دہشت گرد ہوں۔

مجدد رواں صدی

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کا وجود اﷲ جل مجدہ کا امت مسلمہ پر بہت بڑا احسان ہے۔ تحریکِ منہاجُ القرآن کی تجدیدی خدمات کا ہر تعارف حقیقت میں انہی کا تعارف ہے۔ اِسلام کی علمی، فکری، اَخلاقی، روحانی اور ایمانی اَقدار کے فروغ کے سلسلہ میں آپ نے مختصر عرصے میں جو گراں قدر خدمات سرانجام دیں اس کی مثال ہماری تاریخ میں کم ملتی ہے۔ آپ نے تفسیر، حدیث، فقہ، تصوف، سیاسیات، اقتصادیات اور اخلاقیات پر اب تک تقریباً 350 کتب کا ایسا گراں مایہ ذخیرہ امت کو دیا ہے جو صدیوں تک اس کا اثاثہ ہوگا۔ آپ نے عقائد، سیرت اور اصول احکام میں مجتہدانہ شان سے زبان و قلم کو برتا آپ کے سمعی، بصری اور طباعتی مواد کو پڑھنے اور سننے کے لئے ایک عمر درکار ہے۔

مقاصد و اہداف

تحریک منہاج القرآن کے مقاصد و اَہداف کو ایک نظر دیکھنا ہو تو وہ درج ذیل ہیں : اﷲ تعالیٰ سے انسان کا تعلق ایسا ہو جو محبت اور عمل کے سانچے میں ڈھل جائے۔ بنی نوع انسان اور بالخصوص امتِ مسلمہ رسولِ محتشم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت اور اطاعت کے رشتے میں مربوط ہو جائیں۔ لوگ اﷲ تعالیٰ کے آخری پیغام قرآنِ حکیم کی طرف شعوری اور عملی طور پر متوجہ ہو جائیں تاکہ انفرادی اور معاشرتی اصلاح کے بعد قومی اور بین الاقوامی سطح پر غلبہ اور اقامتِ دین کی جدوجہد کامیاب ہو سکے۔ اتحاد کی فضا قائم ہو سکے تاکہ کلمہ گو مسلمان فروعی اختلافات بھلا کر اعلائے کلمۃ اﷲ کے لئے یک جان ہوجائیں۔ علم و آگہی پھیلانے کی ذمہ داری نبھانے والی امت جہالت کے خاتمے کے لئے علم و تحقیق کا تاریخی منصب پھر اپنے ہاتھوں میں لے۔ اخوت اور بھائی چارے کی فضا پورے معاشرے میں نمایاں ہو تاکہ بے کس اور پسماندہ طبقات کو بھی باعزت جینے کا حق حاصل ہو سکے۔

دعوت فکر و عمل

معزز قارئین! ہم سب تسلیم کرتے ہیں کہ یہ موجودہ دور دور فتن ہے، نئی نسلوں سے ایمان کا نور چھن رہا ہے، کفر، لادینیت غلبہ پا رہی ہے۔ ایسے میں جو دردِ دل رکھتے ہیں اور حضور کی امت کی زبوں حالی پر کرب میں مبتلا ہیں جنہیں منزل تک پہنچنے کے لئے صراط مستقیم کی تلاش ہے اور جو اس امر پر متفق ہیں کہ اس دور میں کسی تحریک میں شامل ہوئے بغیر تنہا نصرتِ دین کی جنگ نہیں لڑی جا سکتی۔ آئیں! تحریکِ منہاجُ القرآن میں شمولیت اختیار کریں۔ اس تحریک کے ذریعے اِن شاء اللہ آپ کو نہ صرف دین اسلام کی تعلیمات کا فیض میسر آئے گا بلکہ فتنہ و شر کے خلاف اِجتماعی جدوجہد کا حصہ بن کر ہمیں ایمان کے تحفظ کی ضمانت بھی میسر آئے گی۔ اگر آپ تحریکِ منہاجُ القرآن کی فکر کو درست اس کے پروگرام کو مثبت اور اس کے کارکنوں کو حق سمجھتے ہیں تو آئیں! اللہ تعالیٰ کے حکم ۔ وَتَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوٰی (نیکی اور پرہیزگاری (کے کاموں) پر ایک دوسرے کی مدد کیا کرو) کے مطابق معاشرے میں خیر اور بہتری کے اس کام میں اپنی جدوجہد کو بھی شامل کریں۔

تحریک میں شمولیت

تحریکِ منہاجُ القرآن میں شمولیت نہایت آسان اور سادہ ہے۔ آپ مرد ہیں یا عورت، عمر کے جس حصہ میں بھی ہیں، زندگی کے جس شعبہ سے بھی تعلق رکھتے ہیں، آپ اپنے منصب اور مزاج کے لحاظ سے اس دینی جدوجہد کا حصہ بن سکتے ہیں۔ مَردوں کے لیے ’’تحریکِ منہاجُ القرآن‘‘، خواتین کے لیے ’’منہاجُ القرآن ویمن لیگ‘‘، علماء کرام کے لیے ’’منہاجُ القرآن علماء کونسل‘‘، سیاسی مزاج رکھنے والوں کے لیے ’’پاکستان عوامی تحریک‘‘، نوجوانوں کے لیے ’’منہاجُ القرآن یوتھ لیگ‘‘، فلاحِ انسانیت کا درد رکھنے والوں کے لیے ’’منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن‘‘، وکلاء کے لیے ’’منہاج لایرز فورم‘‘ اور طلباء کے لیے ’’مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ‘‘ کے دروازے ہمہ وقت کھلے ہیں۔

تحریک منہاج القرآن کی رفاقت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں۔